زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی طرف سے قائم کئے گئے ادارہ اعلیٰ تعلیم برائے خوراک و زراعت کے مرکزی سیکرٹریٹ کے تعمیراتی کام کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی طرف سے قائم کئے گئے ادارہ اعلیٰ تعلیم برائے خوراک و زراعت کے مرکزی سیکرٹریٹ کے تعمیراتی کام کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ لاہور میں امریکی قونصل جنرل زیکری ہرکن رائیڈر نے صوبائی وزیرقانون و پارلیمانی اُمور رانا ثناء اللہ خاں 145وزیرزراعت و پروچانسلرجامعہ زرعیہ ڈاکٹر فرخ جاوید اور وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں کے ہمراہ تختی کی نقاب کشائی کی۔ اس موقع پر نیو سینٹ ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی قونصل جنرل زیکری ہرکن رائیڈر نے سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز کوطویل المدت پارٹنرشپ کا روشن باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ 30ملین ڈالر کے اس منصوبے سے آئندہ پانچ برسوں میں پالیسی سازوں اور محققین کو بہترین ریسرچ کے نتیجہ میں قابل عمل پالیسی ترتیب دینے میں مدد ملے گی جس سے پاکستانی معیشت کے اہم ترین زرعی شعبہ کی ترقی کومضبوط بنیاد فراہم ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ پاکستان کی زرعی و معاشی ترقی میں حصہ دار بن کر بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے غذائی استحکام کو یقینی بنانے کا آرزومند ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی کالج سے یونیورسٹی بننے کے دوران بھی امریکہ کی واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی پل مین نے مضبوط و دیرپا پارٹنرشپ کے ذریعے زرعی یونیورسٹی کے درجنوں اساتذہ کوتربیت فراہم کی تھی جسے آج یو ایس ایڈ کے زیرسایہ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ڈیوس کے ذریعے نئی بلندیوں سے ہمکنار کیا جا رہا ہے


انہوں نے کہا کہ حال ہی میں امریکی تعاون سے 1700میگا واٹ بجلی پاکستان کے نیشنل گریڈ کا حصہ بنائی گئی ہے جبکہ 7ہزار سے زائد کالج اور یونیورسٹی اساتذہ کی پیشہ وارانہ استعداد کار میں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز کو پاکستان میں فارم میکانائزیشن145 کلائمیٹ چینج اور بائیو ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تحقیقات کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان میں معاشی ترقی کوفروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے زرعی شعبہ کی دیرپا ترقی کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چندزرعی شعبہ پاکستان میں 40فیصد سے زائد لیبر فورس اور جی ڈی پی میں 21فیصد کا حصہ دار ہے تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران سیلابوں اور زلزلوں سے اس کی پیداوار اور ترقی جمود کا شکار ہے جسے اس شعبہ میں مزید سرمایہ کاری اور سرپرستی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 50کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیاجانیوالا سیکرٹریٹ اپلائیڈ ریسرچ میں غیرمعمولی پیش رفت کی بنیاد پر اکیڈیمیا145 انڈسٹری اور حکومتی اداروں میں موجود خلیج کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ سنٹر سے پہلے فیز میں ریسرچ گرانٹ حاصل کرنیوالے 20سائنس دان جلد ہی یونیورسٹی آف کیلی فورنیاکی شراکت سے اپنے کام کا آغاز کر دینگے۔ زیکری ہرکن رائیڈرنے سنٹر کے ذریعے امریکی پارٹنرشپ کو مستقبل کیلئے مضبوط بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے پاکستان کی نئی نسلوں کو زرعی شعبہ میں آگے بڑھتا ہوا پاکستان دینے میں مدد ملے گی۔ وزیرزراعت ڈاکٹر فرخ جاوید نے یونیورسٹی میں سنٹر کے قیام کو غذائی استحکام کی شاہراہ پر تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور 70فیصد زراعت کے حامل پنجاب کی عوام اس اہم اقدام پر امریکہ کی مشکور ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ ملک کی تمام انڈسٹری کو خام مال کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہوتے ہوئے خصوصی دلچسپی اور سرپرستی کا حقدار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی طرف سے 341ارب روپے کے کسان پیکیج کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت 150ارب روپے کے دیہی رورڈ پروگرام سمیت دیگر دوسرے منصوبوں کیلئے بھی اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ خاں نے توقع ظاہر کی کہ یونیورسٹی میں قائم کیا گیا سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز ایگریکلچر و فوڈ سیکورٹی اپنی کامیابیوں کے ساتھ پوری دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل بنے گا۔


انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی سنٹر کا خوبصورت پہلو ایگریکلچرل سائنسز میں دنیا کی نمبرون یونیورسٹی کے ساتھ اس کی شراکت داری ہے جس سے بائیو ٹیکنالوجی145 کلائمیٹ چینج145 پری سیئن ایگریکلچر145 آؤٹ ریچ اور زرعی پالیسی کا خوبصوت ماڈل سامنے آئے گا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں نے اپنے استقبالیہ کلمات میں تقریب کوتاریخی اہمیت کی حامل قرار دیتے ہوئے ایک طویل المدت پارٹنرشپ کا نقطہ آغاز کردیا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ ہی توانائی اور پانی کا سب سے بڑاصارف ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں 127ملین ڈالرز سے زراعت کے ساتھ ساتھ انرجی اور واٹر پر بھی سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز قائم کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1960ء میں آئی ڈی اے کی توسط سے امریکن یونیورسٹی پل مین کے ساتھ شروع ہونیوالی شراکت داری آج یوسی ڈیوس کے ذریعے مزید توانا ہورہی ہے جو ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے غذائی استحکام کو یقینی بنانے کی بنیاد بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ 1879ء میں خطے سے بھوک 145اور قحط کی وجہ سے اموات کو روکنے کیلئے قائم کئے گئے فیمن کمیشن کی سفارش پر لائل پور کیلئے کھودی گئی تین نہروں اور یہاں وجود پانیوالے زرعی کالج و ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لائل پورنے برصغیر پاک و ہند میں زرعی ترقی145 خوشحالی اور روزگار کے مواقع پیداکرنے میں اہم کردار ادا کیاہے جسے سنٹر کے ذریعے مزید آگے بڑھانے میں مددملے گی۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی بین الاقوامیت کے نظریئے پرغیرمعمولی پیش رفت کر رہی ہے اور ایک سال کے دوران یہاں 400غیرملکیوں کی آمد اور 200سے زائد مقامی اساتذہ اور ماہرین کی ترقی یافتہ ممالک کے مختلف پروگرامز اور تربیتی ورکشاپس میں شرکت اس کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی ملک کی واحد دانش گاہ ہے جس کے سائنس دان بین الاقوامی مقابلے میں 20ملین ڈالرکے تحقیقی منصوبے جیت کر ان میں پیش رفت پر گامزن ہے جبکہ آئندہ پانچ برسوں کیلئے 30ملین ڈالر کا سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز ایک علیحدہ کامیابی کے طو رپر دیکھا جائے گا۔ قومی اسمبلی کے سابق سپیکر قومی اسمبلی اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ڈیوس کے سابق طالب علم سید فخر امام نے کہاکہ انہوں نے گزشتہ دہائیوں کے دوران پاکستان کی جن عظیم کامیابیوں کا مشاہدہ کیا ہے 145 یونیورسٹی کی ترقی ان کا روشن باب ہے۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ مذکورہ سنٹرملک میں غذائی استحکام اور معاشی لحاظ سے مضبوط پاکستان نئی نسلوں کے حوالے کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا نئی نسل آمدہ چیلنجز سے نبردآزما ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ یونیورسٹی کے ماہرین ملک کو معاشی و زرعی خوشحالی سے ہمکنار کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرینگے۔تقریب سے ڈاکٹر بشیر احمداور ڈاکٹر فرخ ریاض نے بھی خطاب کیا۔