59th Alumni Meet of University of Agriculture Faisalabad

زرعی یونیورسٹی فیصل بادہینڈ ئوٹ فیصل آباد 25اپریل ( )2015زرعی یونیورسٹی فیصل باد کی ایلومنائی ایسوسی ایشن کا 59واں اجلاس اقبال ڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بھارت کی پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی لدھیانہ کے وائس چانسلرڈاکٹر بلدیوسنگھ ڈھلوں اور چیئرمین پنجاب کسان کمیشن ڈاکٹر گرچرن سنگھ کالکٹ سمیت ایک درجن بھارتی سائنسدان اور جرمنی‘ سٹریلیا اور گھانا کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی رکن صوبائی اسمبلی حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ بھارتی اور پاکستانی پنجاب کے مابین تحقیق کے شعبے میں تعاون بڑھا کر زرعی شعبے کو درپیش مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کے پیش نظر زرعی شیرازہ بندی کرتے ہوئے پیداواریت کو ترقی یافتہ ممالک کی سطح تک لانے کے لئے باہمی کوششوں کو بروئے کار لانے پر توجہ دی جائے۔




حاضرین سے اپنے خطبہ استقبالیہ میں یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ یونیورسٹی کے سابق طلبائ کو ایلومنائی ایسوسی ایشن جیسا محترک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہوئے پیشہ وارانہ اُمور میں بہتری اور ایلومنائی میٹ کے ذریعے مادر علمی کے ساتھ ان کے روابطہ کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف یونیورسٹی کے نصاب اور ئوٹ ریچ سرگرمیوں میں بہتری لائی جا سکے بلکہ سابق طلبائ کے مضبوط نیٹ ورک کومادرِ علمی کیلئے مزید وسائل کا ذریعہ بنایاجا سکے۔ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران یونیورسٹی زرعی شعبہ اور کسانوں کی ترجمان کے طور پر تحقیقی پس منظر کی حامل قابل عمل سفارشات حکومت تک پہنچاتی ہے جن پر عملدرمدکیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ماڈل کیٹل مارکیٹس کے بعد تمام اضلاع میں ماڈل فروٹ و ویجی ٹیبل مارکیٹیں اور اربوں روپے سے رورل روڈزپروگرام بھی یونیورسٹی کی موثروکالت کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے بھارت‘گھانا ‘جرمنی اور دنیا کے دیگر ممالک سے ئے ہوئے سائنس دانوں کوبتایا کہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے 1905ئ میں رام سنگھ کی زیرنگرانی مکمل ہونے والے اولڈ کیمپس کی خوبصورت بلڈنگ کوپنجاب ایگریکلچرل کالج و میوزیم کا نام دینے کی منظوری دے دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران یونیورسٹی میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور باصلاحیت افرادی قوت کی تیاری و حصول پر غیرمعمولی پیش رفت کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں قائم کئے گئے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز ایگری کلچرو فوڈ سیکورٹی میں امریکی یونیورسٹی ف کیلی فورنیا میں ہر سال 100نوجوانوں کو پی ایچ ڈی کیلئے بھیجا جائے گا جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے بیرون ملک پی ایچ ڈی کے ممکنہ اُمیدواروں کے تحریری ٹیسٹ لئے جا چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے نصاب میں بہتری کیلئے ہر سال سر جوڑ کر بیٹھتی ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کورسز تیار اور بہتر کئے جاتے ہیں ۔بھارت کی پنجاب ایگریکلچریونیورسٹی لدھیانہ کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارتی جامعہ میں ایک اُستاد صرف دو طالب علموں کی رہنمائی کرتا ہے اور یونیورسٹی کا تمام بجٹ حکومت فراہم کرتی ہے جبکہ جامعہ زرعیہ فیصل باد میں ایک استاد کو تین درجن سے زائد طلبائ سے واسطہ رہتا ہے اور حکومتی گرانٹ بھی مجموعی بجٹ کے ایک تہائی تک محدود ہے۔ یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور بھارت کی پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی لدھیانہ کے سابق وائس چانسلر و چیئرمین پنجاب فارمرز کمیشن موہالی ڈاکٹر گرچرن سنگھ کالکٹ نے کہا کہ تقسیم سے قبل برصغیر میں قائم کئے گئے چار زرعی کالجوں میں سب سے بہترین لائل پورزرعی کالج تھااور اس کے طلبائ خود کو تمام دوسرے کالجز سے ممتاز اور خوش قسمت تصور کرتے تھے۔انہوں نے دونوں جامعات میں زیرتعلیم منتخب طلبائ کو ایک ایک سمسٹر کیلئے تبادلے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ اس طرح دونوں ممالک کے ماہرین ایک دوسرے کے زرعی مسائل کو قریب سے دیکھنے اور ان کے حل کیلئے ایک دوسرے کی مدد کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب میں پانی سمیت دیگر زرعی مداخل کے بے مہابا استعمال سے نئے چیلنجز سر اُٹھا رہے ہیں جن سے زرعی پیداوار کو برقرار رکھناایک اہم مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی لدھیانہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر بلدیو سنگھ ڈھلوں نے واضح کیا کہ ان کی یونیورسٹی سمیت بھارت کی چار جامعات زرعی یونیورسٹی فیصل باد میں سے اپنے وجود کو تسلیم کرانے میں کامیاب ہوئی ہیں اور یہ فیض پنجاب زرعی کالج لائل پور سے حاصل ہوا۔ ایلومنائی ایسوسی ایشن کے ابتدائی اجلاس کی صدارت ہال میں موجود معمر ترین سابق طالب علم حافظ عبدالقیوم نے کی اور نظم خیرمقدم بھی پیش کی۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کے نوجوان سائنس دان ڈاکٹر اعجاز تبسم نے نظم جواب خیرمقدم پیش کی۔ گھانا یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر ہارونہ یعقوب نے کہا کہ کلائمیٹ چینج اور فوڈ سیکورٹی پر زرعی یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کی یونیورسٹیاں ایک شعبوں میں تحقیقی مہارتوں اور اساتذہ کی سطح پر باہمی تعاون کو فروغ دیں گی۔ڈین کلیہ زراعت و سیکرٹری ایلومنائی ایسوسی ایشن ڈاکٹر محمد ارشد نے مختلف ممالک سے ئے ہوئے سائنس دانوں اور جامعہ کے سابق طلبائ کا خیرمقدم کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا جبکہ نقابت کے فرائض ڈاکٹر طاہر صدیقی نے ادا کئے۔بعد ازاں وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں اور بھارتی پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی لدھیانہ کے وائس چانسلرڈاکٹر کالکٹ نے ایکسپوسنٹر میں انڈسٹریل و فوٹو نمائش کا افتتاح بھی کیا۔ فیصل باد 25اپریل (\t\t\t\t)زرعی یونیورسٹی فیصل باد کے سابق وائس چانسلر اور نامور پلانٹ بریڈرڈاکٹر عبدالرحمن چوہدری (تمغۂ امتیاز) تعلیمی و سائنسی خدمات کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اکیڈمک ریفرنس منعقد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ مرحوم ایک محنتی اور دیانتدار محقق کے ساتھ ساتھ بہترین انتظامی صلاحیتوں کے حامل سائنس دان تھے۔ ان کی دور اندیشی جھنگ روڈ پر واقع پارس کیمپس پر ایک شاندار کمیونٹی کالج اور کمپلیکس کی صورت میں موجود ہے جبکہ ان کے نقش قدم پرچلتے ہوئے یونیورسٹی کی مختلف قیادتوں نے ترقی کی شاندار روایات قائم کی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ مرحوم ان سے اپنے بیٹے کی طرح محبت کرتے تھے اور ہمیشہ رہنمائی کا فریضہ پوری دیانت کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ مرحوم ڈاکٹر عبدالرحمن چوہدری کی کامیابیوں کو مزید توانائیوں سے گے بڑھائے گی ۔ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر خالد محمودخاں نے کہا کہ مرحوم نے بیرون ممالک سے نیوالے طلبائ کےلئے ہاشمی ہال کی صورت میں شاندار اقامتی سہولیات فراہم کیں ۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عبدالرحمن مرحوم نے سوسائٹی کو باصلاحیت افرادی قوت اور بہترین محقق عطائ کئے۔ڈاکٹر محمد اسلم خاں نے کہاکہ مرحوم ایک محنت اور کام سے لگن کی عملی تصویر تھے اور انہیں انگریزی کی پوری ڈکشنری یاد تھی اور ان سے اچھی انگریزی کوئی نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حافظ عبدالقیوم نے مرحوم کے بارے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی و وفاقی حکومت کے روبرو ان کے احتجاج کے بعد جامعہ کی قیادت کیلئے مقامی پروفیسروں کو ہی زیرغور لایا جانے لگا اور ڈاکٹر رحمان ایسے پہلے وائس چانسلر تھے جن کا انتخاب یونیورسٹی اساتذہ میں سے کیا گیا اور یہ روایت ج تک جاری ہے۔ اپنے بیٹے ڈاکٹر خالد مصطفی مرحوم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ بہت فرمانبردار اور ملن سار انسان تھاجسے قدرت نے زیادہ مہلت نہ دی کہ اپنے خوبیوں کے ساتھ معاشرے کی خوبصورت میں اضافہ کر سکے۔ ڈاکٹر عبدالسلام خاں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالرحمن مرحوم ایک رول ماڈل سائنس دان اور استاد تھے جنہوں نے اپنے کردار و عمل سے سینکڑوں افراد کو متاثر کیا اور پاکستان کے نامور بریڈرزان کے شاگرد تھے۔ڈین کلیہ سوشل سائنسز ڈاکٹر اقبال ظفر نے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر خالد مصطفی ہمیشہ ہنس مکھ انسان تھے جو کسی کی غیبت میں کبھی شریک نہیں ہوتے تھے۔ “SOHسابق صوبائی وزیرحسین جہانیاں گردیزی‘ وائس چانسلرزرعی یونیورسٹی فیصل باد ڈاکٹر اقرار احمدخاں ‘ بھارتی پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرڈاکٹر کالکٹ‘ موجودہ وائس چانسلرڈاکٹربلدیو سنگھ ڈھلوں ‘ ڈاکٹر ہارونا یعقوبا‘ ڈاکٹر خالد محمود خاں ‘ ڈاکٹر محمد ارشد‘ ڈاکٹر عبدالسلام خاں ‘ ڈاکٹر محمد اسلم خاں ڈاکٹر اقبال ظفر‘ ڈاکٹر طاہر صدیقی اور حافظ عبدالقیوم یونیورسٹی ایلومنائی کے 59ویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں